ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / زرعی قوانین: کسان احتجاج میں 2 اکتوبر تک کی توسیع، ملک گیر ریل روکو تحریک کی تیاری

زرعی قوانین: کسان احتجاج میں 2 اکتوبر تک کی توسیع، ملک گیر ریل روکو تحریک کی تیاری

Tue, 29 Sep 2020 10:40:16    S.O. News Service

نئی دہلی،29؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) پنجاب کے کسانوں کی طرف سے قوانین میں تبدیل ہو چکے زرعی بلوں کے خلاف جاری احتجاج میں لگاتار شدت آ رہی ہے۔ کئی دنوں سے صوبہ بھر میں جاری ریل روکو تحریک میں بھی توسیع کر دی گئی ہے اور اب یہ تحریک 2 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ علاوہ ازیں کسانوں نے اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر کو ملک گیر ریل روکو تحریک چلا کر صدائے احتجاج بلند کی جائے گی۔

پنجاب میں پیر کے روز کسانوں نے اپنی 'ریل روکو' تحریک کے انچویں روز اعلان کیا کہ اس تحریک میں 2 اکتوبر تک توسیع کیا جاتی ہے۔ مظاہرین 24 ستمبر سے کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے بینر تلے جالندھر، امرتسر، مکیریاں اور فیروز پور میں ریل کی پٹریوں پر خیمہ زن ہیں۔ اترپردیش، ہریانہ، تلنگانہ، گجرات، گوا، اڈیشہ اور تمل ناڈو کے کسانوں کے علاوہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ کسانوں اور حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود مودی حکومت نے پہلے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ذریعہ زرعی بلوں کو منظور کرایا اور اس کے بعد صدر کی مہر ثبت ہونے کے بعد بلوں کو قوانین میں تبدیل کر دیا۔ پنجاب اور ہریانہ سمیت ملک بھر کے کسانوں کا خیال ہے کہ اس قانون سے زرعی پیداوار کی خرید کا نظام نجی کمپنیوں کے حوالے کر دیا جائے گا اور ایم ایس پی کا نظام ختم ہو جائے گا۔

وہیں، حکومت کی طرف سے لگاتار یہ وضاحت دی جا رہی ہے کہ نئے قوانین کسانوں کے حق میں ہیں اور ان سے ان کو فائدہ ہوگا۔ حالانکہ ان کی وضاحت این ڈی اے کی سب سے پرانی اتحادی اکالی دل کو بھی مطمئن نہیں کر پائی اور اس نے احتجاجاً اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی۔ دریں اثنا، حکومت کی طرف سے اعداد و شمار جاری کر کے کہا گیا ہے کہ 48 گھنٹے کے اندر 10.53 کروڑ روپے کی دھان ایم ایس پی پر خریدی گئی ہے اور اس کا اسے ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔


Share: